معزز خواتین و حضرات اسلام و علیکم

پیسہ ہر دور میں انسان کی ضرورت رہا ہے خصوصا اس مہنگائی اور بے روز گاری کے دور میں بیجارے غریب آدمی مشکل کے لئے جسم و روح کا رشتہ برقرار رکھنا مشکل ہو چکا ہے جتنا کوئی زیادہ غریب یے اسی قرر اس کے مسائل بھی زیادہ ہیں۔ اگر غریب آدمی کو ملازمت میسر بھی ہے تو اس سے گھر میں بامشکل دو وقت کا چولہا جلتا ہے ۔ بچوں کی پرورش اور تعلیم کے اخراجات ، بنیادی صحت کی فراہمی ، بچوں کی شادی اور رہایش جیسی بنیادی ضروریات غریب آدمی کی پہنج سے باہر ہو چکی ہے ۔ جبکہ بجلی ، گیس اور پیٹرول سمیت دیگر روزمرہ کی اشیا ضروریات کی قیمتیں روزانہ کی بنیاد پر بڑھ رہی ہیں جس کی وجہ سے عام لوگ ذہنی مریض بن رہے ہیں جب کے گھریلو جھگڑوں اور خود کشیوں کا رحجان بھی بڑھ رہا ہے۔ مہنگائی کا یہ طوفان کب اور کہاں جا کر رکے گا ؟ کسی کو بھی معلوم نہیں ۔ وطن عزیز میں بے شمار لوگ ایسے ہیں جن میں جوہر قابل تو موجود ہیں لیکن وہ مناسب سرمایہ نہ ہونے کی وجہ سے اپنا چھوٹا موٹا کاروبار کرنے سے قاصر ہیں جب کہ قرضہ کی سہولتیں بھی غریبوں کے لیے نہیں بلکہ امیر اور بااثر لوگوں کے لئے ہے کیونکہ یس کے لئے بھی کسی ضمانت اور سفارش کی ضرورت پڑتی ہے جس سے نا صرف عام آدمی کی غربت کی تشہیر ہوتی ہے بلکہ عزت نفس بھی مجروح ہوتی ہے ۔

خواتین و حضرات ہم سب مل کر بھی مہنگائی کے اس طوفان کو نہیں روک سکتے لیکن ہم ایسا کچھ ضرور کر سکتے ہیں جس سے غریب آدمی کو خوشحال کریے کی کوشش کی جائے جس سے اس کی عزت نفس نہ مجروح ہوِ اور حاصل ہونے والی رقم بھی معقول ہو بہت غور و فکر کرنے کے بعد اس کا حل دین اسلام میں نظر آتا ہے ۔

( ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ !      بھلائی اور تقویٰ کے کاموں میں ایک دوسرے سے تعاون کرو ۔      ( یعنی امداد باہمی

ہم بھلائی کے نیک جزبے کے ساتھ عوام الناس میں امداد باہمی کا شعور بیدار کر کے ایک ایسے خوشحال معاشرے کی بنیاد رکھنا چاہتے ہیں جس میں لوگ اپنی مدد آپ کے تحت اپنے مالی اور معاشی مسائل خود اپنے ہی وسائل سے حل کر سکیں اور نییں حکومت یا کسی اور کے دست نگر نہ ہونا پڑے ۔

معزز خواتین و حضرات ! غریب وہ ہوتا ہے جس کے پاس روپیہ کبھی کبھار آتا ہے اور وہ اسے خرچ بھی کفایت شعاری سے کرتا ہے۔ امیر وہ ہے جس کے پاس روپیہ باکثرت اور بار بار آتا ہے اور وہ اسے خرچ بھی بے دریخ کرتا ہے۔ یعنی غریب کے روپے کی گردش سست اور امیر کے روپے کی گردش تیز ہوتی ہے۔ اب آپ دیکھیں کہ روپیہ تو وہی کبھی آپ کے پاس تو کبھی میرے پاس ، کبھی ایک کے پاس تو کبھی دوسرے کے پاس ، کبھی دکاندار کے پاس اور کبھی کارخانہ دار کے پاس ۔ جی ہاں ! یہ روپے کی گردش ہی ہے جو کہ باری باری سب لوگوں کو فائدہ پہنچاتی ہے اور یہ گردش جتنی زیادہ تیز ہو گی لوگ اتنے ہی خوشحال ہوں گے ۔

گردش

ان سب باتوں کو مد نظر رکھتے ہوئے روپے کی گردش کو تیز رکھنے کے لئے امداد باہمی کی مظبوط بنیاد پر قائم ایک شفاف اور قابل فہم حسابی طریقہ تیار کیا ہے جس میں آپ نے امداد باہمی کے اصول کے مطابق پہلے سے شامل لوگوں کو اپنے ہاتھ سے صرف ایک ۹۰۰ روپے بھیجنے ہیں اور اس کے بعد تین نئے لوگوں کو اس مفید پروگرام میں شامل کرنا ہے جس کے بعد آپ کا کام ختم ہو جائے گا ۔ اب نئے شامل ہونے والے بالکل اس طرح آپ کو رقوم بھیجیں گے اور اگر یہ سلسلہ چلتا رہا تو آپ کو چند ماہ میں لاکھوں روپے تک وصول ہو سکتے ہیں جو کی ناقابل واپسی ہوں گے ۔

گزارش

آپ سے گزارش ہے کہ گردش کو مثبت انداز میں سوچیں اور اس سے پہلے کے بہت دیر ہو جائے اور وقت آپ کے ہاتھ سے نکل جائے اس نیک مقصد کو حاصل کرنے کے لئے ہمارے ساتھ گردش میں شامل ہو جائیں اور خلوص نیت سے امدا باہمی کے اس دریا میں اپنے اپنے حصہ کا ایک ایک قطرہ ڈال دیں اور پھر اس کے نتائج و فوائد دیکھیں جب امداد باہمی کا یہ دریا لبالب بڑھ جائے گا اور اس میں طغیانی آجائے گی تو اس میں شامل تمام لوگ اس میں سے اپنی مالی اور معاشی پیاس بجھا سکیں